Posts

Showing posts from March, 2026

نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 14 شوال 1447ھ - شيخ علي حسن

    پہلا خطبہ :   • نہج البلاغہ میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین (عليه السلام) نے فرمایا : ( الْعِلْمُ وِرَاثَةٌ كَرِيمَةٌ، وَالْآدَابُ حُلَلٌ مُجَدَّدَةٌ، وَالْفِكْرُ مِرْآةٌ صَافِيَةٌ ) یعنی: "علم ایک بہترین میراث ہے، ادب نئے لباس ہیں، اور فکر ایک شفاف آئینہ ہے۔ " • انسان کو وراثت میں جنیاتی (genetic) صفات اور مال و دولت ملتا ہے۔ یہ وراثت کچھ پہلوؤں سے مثبت اور اچھی ہو سکتی ہے، اور کچھ لحاظ سے منفی بھی۔ مثلاً ہو سکتا ہے کہ انسان کو وراثت میں کوئی لاعلاج جنیاتی بیماری مل جائے، یا اپنے بزرگوں کے خاندانی جھگڑے اور مالی مسائل ورثے میں ملیں۔ ایسے میں وہ وراثت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے خود کو مسائل اور تنازعات کی دلدل میں گھرا ہوا پاتا ہے۔ • لیکن امام علی (عليه السلام) ایک بالکل الگ قسم کی وراثت کی بات کر رہے ہیں، اور وہ ہے " علم کی وراثت " ۔ اس وراثت کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں : اس کے مثبت پہلو اور دنیاوی فوائد بے شمار ہیں، جو خود وارث اور دوسروں دونوں کے کام آتے ہیں۔ اس کا ذریعہ محدود نہیں ہے۔ انسان جنیاتی صفات اور مال تو صرف اپنے والدین سے ...

نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 7 شوال 1447ھ - شيخ علي حسن

  پہلا خطبہ : نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) سے مروی ہے: "صدقہ دیا کرو اور اپنے مریضوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو، کیونکہ صدقہ بلاؤں اور بیماریوں کو دور کرتا ہے، اور یہ تمہاری عمروں اور نیکیوں میں اضافے کا باعث ہے۔ " • امام باقر (عليه السلام) سے مروی ہے: "نیکی اور صدقہ فقر (غربت) کو دور کرتے ہیں، عمر میں اضافہ کرتے ہیں اور ستر قسم کی بری موتوں کو ٹال دیتے ہیں۔ " • امیر المؤمنین علی (عليه السلام) سے مروی ہے: "جب تم تنگدست ہو جاؤ تو صدقہ کے ذریعے اللہ کے ساتھ تجارت کیا کرو۔ " • امام صادق (عليه السلام) سے مروی ہے: "چھپا کر دیا گیا صدقہ پروردگار کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔ " • نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) سے مروی ہے: "دو خصلتیں ایسی ہیں جن میں مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی میرے ساتھ شریک ہو: میرا وضو، کیونکہ یہ میری نماز کا حصہ ہے (وضو میں شرکت سے مراد یہ ہے کہ کوئی دوسرا آپ پر پانی ڈالے)، اور میرا صدقہ، کیونکہ یہ میرے ہاتھ سے براہِ راست سائل کے ہاتھ میں جاتا ہے اور (درحقیقت) وہ رحمن کے ہاتھ میں پہنچتا ہے۔ " دوسرا خطبہ: قرآن کریم نے متعدد م...

نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 30 رمضان 1447ھ - شيخ علي حسن

پہلا خطبہ : یہ صحیفہ سجادیہ کی ساتویں دعا  کا عنوان ہے "جب کوئی مشکل پیش آئے یا کوئی مصیبت نازل ہو اور رنج و کرب کے وقت آپ (عليه السلام) کی دعا"۔ یہ دعا ایک آزمائش میں گھرے ہوئے انسان کی کیفیات اور اس کی امیدوں کو بیان کرنے کا بہترین نمونہ ہے۔ امام (ع) فرماتے ہیں: • ( يَا مَنْ تُحَلُّ بِهِ عُقَدُ الْمَكَارِهِ): اے وہ ذات جس کے ذریعے ناگواریوں کی گرہیں کھلتی ہیں۔ اے میرے رب! میرے حالات اور یہ کٹھن لمحات بہت پیچیدہ ہو چکے ہیں اور تو ہی ان گرہوں کو کھولنے پر قادر ہے۔ • ( وَيَا مَنْ يُفْثَأُ بِهِ حَدُّ الشَّدَائِدِ ) اے وہ ذات جس کے ذریعے سختیوں کی دھار کند ہو جاتی ہے۔ اے میرے پروردگار! یہ سختیاں ان تیز دھار تلواروں کی مانند ہیں جو میرے دل اور وجود کو کاٹ رہی ہیں، اور تو ہی ان کی تیزی کو توڑنے پر قادر ہے۔ • ( وَيَا مَنْ يُلْتَمَسُ مِنْهُ الْمَخْرَجُ إلَى رَوْحِ الْفَرَجِ) : اے وہ ذات جس سے کشائش و راحت کی طرف نکلنے کا راستہ طلب کیا جاتا ہے۔ اے میرے رب! میں ان بڑھتی ہوئی مشکلات کے تلے شدید دباؤ اور گھٹن محسوس کر رہا ہوں، اور تو ہی مجھے ان سے نجات دلا کر ایسی حالت کی طرف لے جانے ...

نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 23 رمضان 1447ھ - شيخ علي حسن

     پہلا خطبہ : ابو حمزہ ثمالی (رض) سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا: (حضرت امام زین العابدین علیہ السلام ماہِ رمضان میں پوری رات نماز پڑھا کرتے تھے، اور جب سحر کا وقت ہوتا تو یہ دعا مانگتے تھے)۔ انہوں نے وہ مشہور دعا روایت کی جو "دعائے ابو حمزہ ثمالی" کے نام سے جانی جاتی ہے، جو کہ اصل میں امام زین العابدین علیہ السلام کی دعا ہے، اور ثمالی کی طرف اس کی نسبت اس لیے ہے کیونکہ وہ اس کے راوی ہیں۔ • اس دعا میں، ان تمام مقامات کے باوجود جہاں انسان اپنے گناہوں اور کوتاہیوں کا اعتراف کرتا ہے، جیسا کہ آپ (عليه السلام) کا قول ہے: (اے میرے رب! میں وہی ہوں جس نے خلوت میں تجھ سے حیا نہ کی اور جلوت میں تیرا لحاظ نہ کیا، میں بڑی بڑی گناہوں والا ہوں، میں وہی ہوں جس نے اپنے آقا کے مقابلے میں جرات کی، میں وہی ہوں جس نے آسمانوں کے جبار کی نافرمانی کی، میں وہی ہوں جس نے جلیل (خدا) کی معصیت کے لیے رشوتیں دیں.... ہائے افسوس اس پر جو تیری کتاب (نامہ اعمال) نے میرے عمل کا احاطہ کر رکھا ہے)۔ (أَنا يارَبِّ الَّذِي لَمْ أَسْتَحْيِكَ فِي الخَلاءِ وَلَمْ اُراقِبْكَ فِي المَلاءِ، أَنا صاحِبُ الدَّواهِي ...

نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 16 رمضان 1447ھ - شيخ علي حسن

   پہلا خطبہ : • صحیفہ سجادیہ میں ماہِ رمضان کی وداع کی دعا میں آیا ہے: (اللهم وأنت جعلت من صفايا تلك الوظائف)  اے اللہ! تو نے ان فرائض کے بہترین حصوں میں سے بنایا (وخصائصِ تلك الفروض)  اور ان فرائض کی خصوصیات میں سے (شهرَ رمضان الذي اختصَصْتَه مِن سائر الشهور... وأجلَلتَ فيه مِن ليلةِ القدرِ، التي هي خيرٌ مِن ألف شهر) ماہِ رمضان کو قرار دیا جسے تو نے تمام مہینوں میں سے خاص کیا... اور اس میں شبِ قدر کو عظمت عطا کی، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔ • اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے سال کے مہینوں میں سے ماہِ رمضان کا انتخاب کیا، اسے تمام مہینوں میں ممتاز کیا، اور اسے وہ خصوصیات اور مقام عطا فرمایا جو کسی اور کو نہیں ملا... اور اس مہینے کا گوہرِ نایاب 'شبِ قدر' ہے... ایک ایسی رات جو انسان کی پوری زندگی سے بہتر ہے... ہزار مہینوں سے بہتر۔ • جب آپ رب العالمین کے اس پیغام پر غور کریں گے کہ یہ رات آپ کی پوری عمر اور اس سے بھی زیادہ کی قیمت رکھتی ہے... تو پھر آپ اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں گے؟ • منطقی بات یہ ہے کہ آپ اس رات کو انتہائی اور خصوصی اہمیت دیں، اور پہلے سے یہ سوچیں کہ اس س...