نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 14 شوال 1447ھ - شيخ علي حسن
پہلا خطبہ : • نہج البلاغہ میں مروی ہے کہ امیر المؤمنین (عليه السلام) نے فرمایا : ( الْعِلْمُ وِرَاثَةٌ كَرِيمَةٌ، وَالْآدَابُ حُلَلٌ مُجَدَّدَةٌ، وَالْفِكْرُ مِرْآةٌ صَافِيَةٌ ) یعنی: "علم ایک بہترین میراث ہے، ادب نئے لباس ہیں، اور فکر ایک شفاف آئینہ ہے۔ " • انسان کو وراثت میں جنیاتی (genetic) صفات اور مال و دولت ملتا ہے۔ یہ وراثت کچھ پہلوؤں سے مثبت اور اچھی ہو سکتی ہے، اور کچھ لحاظ سے منفی بھی۔ مثلاً ہو سکتا ہے کہ انسان کو وراثت میں کوئی لاعلاج جنیاتی بیماری مل جائے، یا اپنے بزرگوں کے خاندانی جھگڑے اور مالی مسائل ورثے میں ملیں۔ ایسے میں وہ وراثت سے لطف اندوز ہونے کے بجائے خود کو مسائل اور تنازعات کی دلدل میں گھرا ہوا پاتا ہے۔ • لیکن امام علی (عليه السلام) ایک بالکل الگ قسم کی وراثت کی بات کر رہے ہیں، اور وہ ہے " علم کی وراثت " ۔ اس وراثت کی نمایاں خصوصیات یہ ہیں : اس کے مثبت پہلو اور دنیاوی فوائد بے شمار ہیں، جو خود وارث اور دوسروں دونوں کے کام آتے ہیں۔ اس کا ذریعہ محدود نہیں ہے۔ انسان جنیاتی صفات اور مال تو صرف اپنے والدین سے ...