نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 16 رمضان 1447ھ - شيخ علي حسن

  پہلا خطبہ:

• صحیفہ سجادیہ میں ماہِ رمضان کی وداع کی دعا میں آیا ہے: (اللهم وأنت جعلت من صفايا تلك الوظائف)  اے اللہ! تو نے ان فرائض کے بہترین حصوں میں سے بنایا (وخصائصِ تلك الفروض)  اور ان فرائض کی خصوصیات میں سے (شهرَ رمضان الذي اختصَصْتَه مِن سائر الشهور... وأجلَلتَ فيه مِن ليلةِ القدرِ، التي هي خيرٌ مِن ألف شهر) ماہِ رمضان کو قرار دیا جسے تو نے تمام مہینوں میں سے خاص کیا... اور اس میں شبِ قدر کو عظمت عطا کی، جو ہزار مہینوں سے بہتر ہے۔

• اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کے لیے سال کے مہینوں میں سے ماہِ رمضان کا انتخاب کیا، اسے تمام مہینوں میں ممتاز کیا، اور اسے وہ خصوصیات اور مقام عطا فرمایا جو کسی اور کو نہیں ملا... اور اس مہینے کا گوہرِ نایاب 'شبِ قدر' ہے... ایک ایسی رات جو انسان کی پوری زندگی سے بہتر ہے... ہزار مہینوں سے بہتر۔

• جب آپ رب العالمین کے اس پیغام پر غور کریں گے کہ یہ رات آپ کی پوری عمر اور اس سے بھی زیادہ کی قیمت رکھتی ہے... تو پھر آپ اس کے ساتھ کیسا برتاؤ کریں گے؟

• منطقی بات یہ ہے کہ آپ اس رات کو انتہائی اور خصوصی اہمیت دیں، اور پہلے سے یہ سوچیں کہ اس سے زیادہ سے زیادہ فائدہ کیسے اٹھایا جائے۔

• میں اپنے پیارے بھائیوں کی توجہ اس جانب مبذول کرانا چاہتا ہوں کہ شبِ قدر (آدھی رات) یا مثلاً اس سے ایک گھنٹہ پہلے سے شروع نہیں ہوتی، بلکہ یہ سورج غروب ہوتے ہی شروع ہو جاتی ہے اور طلوعِ فجر تک جاری رہتی ہے: (سَلامٌ هِيَ حَتَّى مَطْلَعِ الفَجْرِ)

• اس لیے ہمیں چاہیے کہ ہم ان تمام گھنٹوں کے لیے ایک مناسب روحانی اور عبادی پروگرام تیار کریں، اور جہاں تک ممکن ہو اس کا کوئی حصہ ضائع نہ کریں۔

اللهُمَّ إِنَّكَ قُلْتَ فِي كِتابِكَ الْمُنْزَلِ﴿شَهْرُ رَمَضانَ الَّذِي أُنْزِلَ فِيهِ الْقُرْآنُ هُدَىً لِلنَّاسِ وَبَيِّناتٍ مِنَ الْهُدَى وَالْفُرْقان﴾ فَعَظَّمْتَ حُرْمَةَ شَهْرِ رَمَضانَ بِما أَنْزَلْتَ فِيهِ مِنَ الْقُرْآنَ، وَخَصَصْتَهُ بِلَيْلَةِ الْقَدْرِ، وَجَعَلْتَها خَيْراً مِنْ أَلْفِ شَهْرٍ، اللهُمَّ وَهذِهِ أَيَّامُ شَهْرِ رَمَضانَ قَدِ انْقَضَتْ، وَلَيالِيهِ قَدْ تَصَرَّمَتْ، وَقَدْ صِرْتُ يا إِلهِي مِنْهُ إِلَى ما أَنْتَ أَعْلَمُ بِهِ مِنِّي، وَأَحْصَى لِعَدَدِهِ مِنَ الْخَلْقِ أَجْمَعِينَ، فَأَسْأَلُكَ أَنْ تُصَلِّيَ عَلَى مُحَمَّدٍ وَآلِ مُحَمَّدٍ، وَأَنْ تَفُكَّ رَقَبَتِي مِنَ النَّارِ، وَتُدْخِلَنِي الْجَنَّةَ بِرَحْمَتِكَ، وَأَنْ تَتَفَضَّلَ عَلَيَّ بِعَفْوِكَ وَكَرَمِكَ، وَتَتَقَبَّلَ تَقَرُّبِي، وَتَسْتَجِيبَ دُعائِي، وَتَمُنَّ عَلَيَّ بِالْأَمْنِ يَوْمَ الْخَوْفِ مِنْ كُلِّ هَوْلٍ أَعْدَدْتَهُ لِيَوْمِ الْقِيامَةِ.

• اے اللہ! تو نے اپنی نازل کردہ کتاب میں فرمایا ہے: ﴿رمضان کا مہینہ وہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا، جو لوگوں کے لیے ہدایت ہے اور ہدایت اور حق و باطل کے درمیان فرق کرنے والی واضح نشانیاں ہیں﴾، پس تو نے قرآن نازل فرما کر ماہِ رمضان کی حرمت کو عظیم بنایا، اور اسے شبِ قدر کے ذریعے خصوصیت عطا کی، اور اسے ہزار مہینوں سے بہتر قرار دیا۔ اے اللہ! اب رمضان کے یہ دن گزر چکے ہیں اور اس کی راتیں بیت چکی ہیں، اور اے میرے معبود! میں اس مہینے کے اختتام پر اس حالت کو پہنچا ہوں جسے تو مجھ سے بہتر جانتا ہے، اور تمام مخلوق سے زیادہ اس کا حساب رکھنے والا ہے۔ پس میں تجھ سے سوال کرتا ہوں کہ محمدؐ اور آلِ محمدؐ پر درود بھیج، اور میری گردن کو آگ سے آزاد کر دے، اپنی رحمت سے مجھے جنت میں داخل فرما، اپنے عفو و کرم سے مجھ پر فضل فرما، میری قربت (عبادت) کو قبول کر، میری دعا مستجاب فرما، اور قیامت کے دن ہر اس ہولناکی کے خوف سے مجھے امن عطا کر جو تو نے اس دن کے لیے رکھی ہے۔


دوسرا خطبہ:

• حضرت علی علیہ السلام بلاشبہ اتحادِ اسلامی کے علمبردار تھے۔ آپ ہمیشہ اسلام اور مسلمانوں کی مصلحت کو مقدم رکھتے تھے اور ان تمام اختلافات، تنازعات اور منفی رویوں کو پسِ پشت ڈال دیتے تھے جو آپ کی ذات سے متعلق ہوتے تھے... یہ سب اس رسالتی مشن کی حفاظت کے لیے تھا جسے آپ نے نبی کریم صلى الله عليه وآله سے ایک امانت کے طور پر وصول کیا تھا اور جس کا سفر آپ جاری رکھنا چاہتے تھے۔

• اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: (لَقَدْ عَلِمْتُمْ أَنِّي أَحَقُّ النَّاسِ بِهَا مِنْ غَيْرِي، وَوَاللَّهِ لَأُسْلِمَنَّ مَا سَلِمَتْ أُمُورُ الْمُسْلِمِينَ، وَلَمْ يَكُنْ فِيهَا جَوْرٌ إِلَّا عَلَيَّ خَاصَّةً، الْتِمَاساً لِأَجْرِ ذَلِكَ وَفَضْلِهِ، وَزُهْداً فِيمَا تَنَافَسْتُمُوهُ مِنْ زُخْرُفِهِ وَزِبْرِجِهِ). (تم خوب جانتے ہو کہ دوسروں کی نسبت میں خلافت کا زیادہ حقدار ہوں، لیکن خدا کی قسم! میں اس وقت تک صبر اور خاموشی سے کام لوں گا جب تک مسلمانوں کے معاملات درست رہیں اور سوائے میری ذات کے کسی پر ظلم نہ ہو رہا ہو۔ یہ میں اس (صبر) کے اجر و فضل کی خاطر اور اس دنیا کی آرائش و زیبائش سے بے رغبتی کی بنا پر کروں گا جس کے لیے تم ایک دوسرے سے مقابلہ کر رہے ہو)۔

• اور آپ علیہ السلام فرماتے ہیں: (فَأَمْسَكْتُ يَدِي حَتَّى رَأَيْتُ رَاجِعَةَ النَّاسِ قَدْ رَجَعَتْ عَنِ الْإِسْلَامِ يَدْعُونَ إِلَى مَحْقِ دَيْنِ مُحَمَّدٍ [ص] فَخَشِيتُ إِنْ لَمْ أَنْصُرِ الْإِسْلَامَ وَأَهْلَهُ أَنْ أَرَى فِيهِ ثَلْماً أَوْ هَدْماً تَكُونُ الْمُصِيبَةُ بِهِ عَلَيَّ أَعْظَمَ مِنْ فَوْتِ وِلَايَتِكُمُ الَّتِي إِنَّمَا هِيَ مَتَاعُ أَيَّامٍ قَلَائِلَ يَزُولُ مِنْهَا مَا كَانَ كَمَا يَزُولُ السَّرَابُ أَوْ كَمَا يَتَقَشَّعُ السَّحَابُ فَنَهَضْتُ فِي تِلْكَ الْأَحْدَاثِ حَتَّى زَاحَ الْبَاطِلُ وَزَهَقَ وَاطْمَأَنَّ الدِّينُ وَتَنَهْنَهَ). (پس میں نے اپنا ہاتھ کھینچ لیا، یہاں تک کہ میں نے دیکھا کہ کچھ لوگ اسلام سے پھر گئے ہیں اور دینِ محمد صلى الله عليه وآله کو مٹانے کی دعوت دے رہے ہیں۔ تو مجھے ڈر ہوا کہ اگر میں نے اسلام اور اہل اسلام کی مدد نہ کی تو اس میں ایسا رخنہ یا انہدام دیکھوں گا جس کی مصیبت میرے لیے تمہاری حکومت کے چھن جانے سے کہیں بڑی ہوگی۔ تمہاری یہ حکومت تو چند دن کا متاع ہے جو ایسے ہی ختم ہو جائے گی جیسے سراب زائل ہو جاتا ہے یا بادل چھٹ جاتے ہیں۔ چنانچہ میں ان واقعات میں اٹھ کھڑا ہوا یہاں تک کہ باطل مٹ گیا اور دین کو اطمینان و استحکام نصیب ہوا)۔

• لہذا، ان مشکل اور غیر معمولی حالات میں جن سے کویت اور ہمارا خطہ گزر رہا ہے، ہمیں علی (ع) سے یہ سیکھنا چاہیے کہ ہم اپنے اتحاد کی حفاظت کیسے کریں۔ ہمیں کسی ایسے دشمن کے ہاتھ کا آلہ کار نہیں بننا چاہیے جو ہمیں اندرونی طور پر ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا ہو، یا ہمارے درمیان فرقہ وارانہ تعصبات ابھار کر ہمیں ایک دوسرے سے لڑانا چاہتا ہو۔

• اس کے لیے ہمیں درج ذیل باتوں پر توجہ دینے اور ان کا لحاظ رکھنے کی ضرورت ہے:

اتحاد و یکجہتی کی حفاظت: جان بوجھ کر یا نادانی میں پیدا کی جانے والی اشتعال انگیزیوں کا اثر نہ لیں، خواہ وہ مسلکی ہوں یا کسی اور نوعیت کی کیونکہ اندرونی محاذ اور معاشرے کو تقسیم، برتری کے دعووں، نسل پرستی اور غداری کے الزامات والے خطابات سے بچانا محض ایک جذباتی معاملہ نہیں بلکہ یہ قومی اور اسلامی مصلحت کا تقاضا ہے۔

افواہوں سے پرہیز: افواہوں کے پیچھے چلنے اور انہیں پھیلانے سے گریز کریں، کیونکہ خاص طور پر جنگی حالات اور کٹھن وقت میں ان کے معاشرے پر انتہائی خطرناک اثرات ہوتے ہیں۔

سرکاری ہدایات کی پابندی: سرکاری اور سیکیورٹی اداروں کی جانب سے جاری کردہ ہدایات پر عمل کریں کیونکہ اسی میں سب کا فائدہ اور معاشرتی امن و سکون کا تحفظ ہے۔

خوف اور ہاہاکار سے گریز: اشیائے خوردونوش جمع کرنے کے لیے بازاروں میں ہجوم نہ کریں اور نہ ہی گھبرائیں۔ الحمد للہ، ملک میں سٹرٹیجک اسٹاک کئی ماہ کے لیے کافی ہے اور تمام مارکیٹیں اور مراکز چوبیس گھنٹے کھلے اور سب کی دسترس میں ہیں۔

دعا کی اہمیت: ہم اس مبارک مہینے میں ہیں، لہذا اس دعا کو نہ بھولیں کہ اللہ تعالیٰ کویت کو ہر قسم کی برائی اور شر سے محفوظ رکھے۔ ہمیں ملک کی حکیمانہ قیادت پر بھرپور اعتماد ہے کہ وہ کویت کو امن و سلامتی کے ساحل تک لے جائیں گے۔

اے اللہ! اس شہر (ملک) کو اور تمام مسلمان ممالک کو امن و امان کا گہوارہ بنا دے۔


Comments

Popular posts from this blog

The Friday sermon for July 24, 2026 (corresponding to 9 Safar 1448 AH) - Sayed Hashim Behbehani Mosque - Sheikh Ali Hassan Ghuloum - Kuwait

نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 2 رمضان 1447ھ - شيخ علي حسن

The Friday sermon for July 17, 2026 (corresponding to 2 Safar 1448 AH) - Sayed Hashim Behbehani Mosque - Sheikh Ali Hassan Ghuloum - Kuwait