نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 9 رمضان 1447ھ - شيخ علي حسن
پہلا خطبہ : اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم پر روزے فرض کیے گئے ہیں، جس طرح تم سے پہلے لوگوں پر فرض کیے گئے تھے، تاکہ تم پرہیزگار بنو۔ (البقرہ: 183) • قرآن کریم نے تقویٰ کو عملی زندگی میں نافذ کرنے کے کن شعبوں کی نشاندہی کی ہے، جو روزے کے ذریعے حاصل ہونے والے عملی فائدے کی نمائندگی کرتے ہیں؟ کیا ان کا تعلق صرف عبادت کے خصوصی معنی (عبادت کے مخصوص اعمال) سے ہے؟ چنانچہ جب آپ کسی متقی، دیندار، یا اپنے رب سے ڈرنے والے شخص کے بارے میں پوچھتے ہیں، تو لوگ کہتے ہیں: وہ شخص جو نماز پڑھتا ہے، زکوٰۃ دیتا ہے، روزہ رکھتا ہے۔ • درحقیقت یہ تقویٰ کے حصول کے ذرائع اور اس کی علامات میں سے ہیں، نہ کہ خود تقویٰ۔ لہٰذا اگر آپ جاننا چاہتے ہیں کہ آیا کوئی شخص متقی ہے، تو آپ کو زندگی میں اس کے عمومی طرز عمل کو دیکھنا ہوگا۔ • چنانچہ قرآنی آیات کا جائزہ لینے سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ تقویٰ کا زندگی کے مختلف پہلوؤں میں موجود ہونا ضروری ہے، خواہ وہ معاشیات، سیاست، سماجی زندگی، یا جنگ وغیرہ کے میدان ہوں۔ · جنگ اور قتال میں: (ماہِ حرام کا بدلہ ماہِ حرام ہے اور حرمتوں (ادب کرنے کی چیزوں) کا بھی بدلہ (قصاص) ہے۔ پس ...