نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 7 شوال 1447ھ - شيخ علي حسن
پہلا خطبہ:
نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) سے مروی ہے: "صدقہ دیا کرو اور اپنے
مریضوں کا علاج صدقہ کے ذریعے کرو، کیونکہ صدقہ بلاؤں اور بیماریوں کو دور کرتا ہے،
اور یہ تمہاری عمروں اور نیکیوں میں اضافے کا باعث ہے۔"
• امام باقر (عليه السلام) سے مروی ہے:
"نیکی اور صدقہ فقر (غربت) کو دور کرتے ہیں، عمر میں اضافہ کرتے ہیں اور ستر قسم
کی بری موتوں کو ٹال دیتے ہیں۔"
• امیر المؤمنین علی (عليه السلام) سے مروی
ہے: "جب تم تنگدست ہو جاؤ تو صدقہ کے ذریعے اللہ کے ساتھ تجارت کیا کرو۔"
• امام صادق (عليه السلام) سے مروی ہے:
"چھپا کر دیا گیا صدقہ پروردگار کے غصے کو ٹھنڈا کرتا ہے۔"
• نبی اکرم (صلى الله عليه وآله) سے مروی ہے:
"دو خصلتیں ایسی ہیں جن میں مجھے یہ پسند نہیں کہ کوئی میرے ساتھ شریک ہو: میرا
وضو، کیونکہ یہ میری نماز کا حصہ ہے (وضو میں شرکت سے مراد یہ ہے کہ کوئی دوسرا آپ
پر پانی ڈالے)، اور میرا صدقہ، کیونکہ یہ میرے ہاتھ سے براہِ راست سائل کے ہاتھ میں
جاتا ہے اور (درحقیقت) وہ رحمن کے ہاتھ میں پہنچتا ہے۔"
دوسرا خطبہ:
قرآن کریم نے متعدد مقامات اور مختلف
پہلوؤں سے ارادہ اور مشیئتِ الٰہی کے بارے میں گفتگو کی ہے۔ قرآنی آیات اور
احادیثِ مبارکہ کی روشنی میں علماء نے مشیئت اور ارادہ الٰہی کی دو بنیادی اقسام
بیان کی ہیں:
پہلی قسم: مشیئت اور ارادہِ تکوینی
اس کا تعلق تخلیق اور وجود بخشنے
سے ہے۔ آسمانوں، زمین، تمام موجودات، فرشتوں، جنت، جہنم، موت اور زندگی وغیرہ کی
تخلیق اسی زمرے میں آتی ہے۔
• کائنات میں ہونے والے تمام واقعات
بھی اسی کا حصہ ہیں، جیسے آج کا موسم خوشگوار ہونا، گرد آلود ہونا، بادل، بارش،
زلزلہ یا گرہن وغیرہ۔
• اس قسم کا سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ
جس چیز کا اللہ ارادہ کر لے اس کا وقوع پذیر ہونا حتمی ہے: (إِنَّمَا
قَوْلُنَا لِشَيْءٍ إِذَا أَرَدْنَاهُ أَن نَّقُولَ لَهُ كُن فَيَكُونُ) "ہم
جب کسی چیز کا ارادہ کرتے ہیں تو ہمارا قول صرف یہ ہوتا ہے کہ ہم اس سے کہتے ہیں
'ہو جا' پس وہ ہو جاتی ہے"۔
• بعض لوگ یہ سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں
کہ یہ کام اسی لمحے ہو جاتا ہے۔ نہیں، یہ آیت وقت کی قید کے بارے میں نہیں، بلکہ
اس ارادے کے حتمی ہونے پر زور دیتی ہے، چاہے وہ کام اسی لمحے ہو یا اربوں
سال بعد۔
• مثال: زمین و
آسمان کی موجودہ شکل میں تخلیق ارادہِ تکوینی ہے، اللہ نے "کُن" فرمایا
اور وہ ہو گیا، لیکن اس عمل کی تکمیل میں اربوں سال لگے۔
• کائنات پر حکمران تمام طبعی (Physical) اور کیمیائی قوانین بھی اسی ارادہِ تکوینی کا حصہ ہیں۔
• اللہ نے یہ بھی چاہا ہے کہ آخرت میں
یہ سب بدل جائے: (يَوْمَ تُبَدَّلُ الأَرْضُ غَيْرَ الأَرْضِ...) "جس دن یہ
زمین دوسری زمین سے بدل دی جائے گی"۔ یہ بھی "کُن فَيَكُونُ" کا
حصہ ہے۔
دوسری قسم: مشیئت اور ارادہِ تشریعی
اس کا تعلق شریعت، احکامات، اوامر
اور نواہی (حکم دینے اور روکنے) سے ہے۔
• رمضان کے روزوں کے وجوب کے بعد اللہ
تعالی فرماتا ہے: (يُرِيدُ اللَّهُ بِكُمُ الْيُسْرَ وَلاَ يُرِيدُ بِكُمُ
الْعُسْرَ) "اللہ تمہارے ساتھ آسانی چاہتا ہے اور تمہارے لیے سختی نہیں
چاہتا"۔
• روزوں کا وجوب اور مریض و مسافر کے
لیے قضا کی سہولت اللہ کا ارادہِ تشریعی ہے۔
• ارادے کی یہ قسم ضروری نہیں کہ (عملی
طور پر) واقع ہو، کیونکہ اس کا دارومدار انسان کے اپنے اختیار پر ہے۔
• لیکن کیا اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر
میں روزہ رکھوں یا نہ رکھوں تو میں اللہ کی مشیئت سے باہر نکل گیا؟ کیا میرا ارادہ
اللہ کے ارادے پر غالب آ گیا؟ ہرگز نہیں:
- اللہ
نے تکوینی طور پر یہ چاہا ہے کہ مجھے بااختیار بنائے کہ میں
چاہوں تو عمل کروں، چاہوں تو نہ کروں۔
- اللہ
نے یہ چاہا ہے کہ جو میں راستہ چنوں اسے نافذ کر دے، اور اگر وہ مجھے روکنا
چاہتا تو روک دیتا: (وَمَا تَشَاؤُونَ إِلاَّ أَن يَشَاء اللَّهُ) "اور
تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے"۔
اسی اختیار کی بنیاد پر انسان
کا حساب کتاب ہوگا اور اسے اس کے ایمان، کفر، اچھے برے اعمال اور اطاعت و نافرمانی
پر جزا یا سزا ملے گی۔ اسی لیے اللہ نے مشرکین کے اس قول کو غلط قرار دیا کہ:
(لَوْ شَاءَ الرَّحْمَٰنُ مَا عَبَدْنَاهُم) "اگر رحمن چاہتا تو ہم ان (بتوں)
کی عبادت نہ کرتے"۔
اسی طرح ہم اس شخص کو بھی غلطی پر
سمجھتے ہیں جو اپنی ازدواجی زندگی کی ناکامی کا ملبہ "قسمت اور نصیب" پر ڈال دیتا ہے، گویا وہ جیون ساتھی کے انتخاب
میں بے اختیار تھا؛ یا وہ شخص جو ڈرائیونگ کے دوران موبائل استعمال کرتے ہوئے
حادثہ کر بیٹھے اور اسے "قضا و قدر" قرار دے۔
انسان اپنی زندگی کے معاملات اور آخرت کی سعادت یا بدبختی میں اپنے فیصلوں کا ذمہ
دار ہے۔
Comments
Post a Comment