نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 23 صفر 1448 هـ - مسجد سيد هاشم بهبهاني - كويت - شيخ علي حسن غلوم

 


پہلی خطبہ:  "نورِ ہدایت اور عظمتِ رسالت: امام زین العابدین کی دوسری دعا کا ایک مطالعہ"

صحیفہ سجادیہ: رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر درود و سلام کے باب میں امام زین العابدین (عليه السلام) کی دوسری دعا

دعا کا آغاز اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا سے ہوتا ہے جس نے ہم پر اپنے رسول کا احسان فرمایا۔ امام فرماتے ہیں:

"تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جس نے اپنی قدرتِ کاملہ کے ذریعے — جو نہ کسی بڑی چیز سے عاجز ہوتی ہے اور نہ کسی باریک شے سے غافل — گزشتہ امتوں اور پہلی قوموں کے برعکس ہم پر اپنے نبی محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ذریعے احسان فرمایا۔ یوں اس نے ہمیں اپنی تمام مخلوقات پر خاتم الامم بنایا، حق کا انکار کرنے والوں پر شاہد قرار دیا، اور اپنے فضل سے ہماری کم تعداد کو کثرت میں بدل دیا۔"

ایک ایسا وقت جب دنیا شرک اور گمراہی کے اندھیروں میں ڈوبی ہوئی تھی، اسلام کا نور ہر سو پھیل گیا۔ پیغمبرِ رحمت کی انتھک محنتوں اور عظیم قربانیوں کے طفیل لوگ جوق در جوق اللہ کے دین میں داخل ہونے لگے۔

"اے اللہ! درود بھیج محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) پر، جو تیری وحی کے امین، تیرے منتخب بندے، تیرے مقرب ترین خادم، رحمت کے امام، خیر کے قائد اور برکت کی چابی ہیں۔ انہوں نے تیرے حکم کی تعمیل میں خود کو وقف کر دیا، تیری راہ میں جسمانی مصائب جھیلے، اور تیری طرف دعوت دیتے ہوئے اپنے قریبی رشتہ داروں کا اعلانیہ سامنا کیا اور تیری رضا کی خاطر اپنے ہی قبیلے سے نبرد آزما ہوئے…"

انہوں نے تیرا پیغام پہنچانے میں خود کو تھکا دیا، تیرے دین کی طرف بلانے میں سختیاں برداشت کیں، اور اپنے ماننے والوں کی خیر خواہی میں مشغول رہے۔ انہوں نے اپنا وطن، پیدائش کی جگہ اور آرام گاہ چھوڑ کر دیارِ غیر کی طرف ہجرت کی—صرف تیرے دین کی سربلندی اور کفر پر فتح حاصل کرنے کی خاطر۔

آخر میں امام، پیغمبرِ اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے دعا پر سلسلہ ختم کرتے ہیں، اور ہم اس دعا پر آمین کہتے ہیں:

"اے اللہ! تیرے لیے اٹھائی گئی ان کی تمام تر تکلیفوں کے عوض انہیں اپنی جنت کے اعلیٰ ترین درجے پر فائز فرما، یہاں تک کہ مرتبے میں کوئی ان کا ثانی نہ ہو، مقام میں کوئی ان کی برابری نہ کر سکے، اور نہ ہی کوئی مقرب فرشتہ یا مرسل نبی ان کے ہم پلہ ہو سکے۔ ان کی پاکیزہ اہل بیت اور مومن امت کے حق میں ان کی شفاعت کو اس شاندار وعدے کے مطابق قبول فرما جو تو نے ان سے کیا ہے۔ اے وعدے کو لازمی پورا کرنے والے، اے قول کے سچے، اور اے برائیوں کو کئی گنا نیکیوں میں بدلنے والے! بیشک تو عظیم فضل کا مالک اور انتہائی سخاوت کرنے والا کرم فرما ہے۔"

 

دوسری خطبہ: سوشل میڈیا کے دور میں نبوی آدابِ گفتگو

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یومِ وصال کے موقع پر: ڈیجیٹل مکالمے کو بہتر بنانے کی ایک پکار

آج ہم ایک ایسی کھلی ڈیجیٹل دنیا میں زندگی گزار رہے ہیں جہاں اسکرینیں ممبروں میں اور سوشل میڈیا پلیٹ فارمز بحث و مباحثے کے میدانوں میں تبدیل ہو چکے ہیں۔ لیکن یہ ورچوئل دنیا ایک شدید اخلاقی بحران کا شکار ہے: جارحانہ گفتگو، سائبر بلنگ (آن لائن غنڈہ گردی)، افواہوں کے پھیلاؤ میں جلد بازی، اور دوسروں کی بات سننے کے رجحان کا فقدان۔

نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یومِ وصال کے موقع پر، ہم اس عصری الجھن کو سلجھانے کے لیے آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سیرت سے رہنمائی حاصل کرنا چاہتے ہیں۔

پہلا محور: سننے کی مہارت اور تبصرہ کرنے سے پہلے تصدیق

سوشل میڈیا کی دنیا میں، ہر کوئی بات کو پوری طرح سمجھے بغیر لکھنے اور تبصرہ کرنے کی دوڑ میں لگا ہوا ہے۔ نبوی طریقہ کار ہمیں سکھاتا ہے کہ کامیاب مکالمے کا پہلا قدم مکمل، اچھی طرح اور غیر جانبدارانہ طور پر سننا ہے۔

روایات میں ہے کہ ایک روز قریش کے سرداروں نے عتبہ بن ربیعہ کو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس بھیجا تاکہ وہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو دعوتِ حق سے روک سکے۔ عتبہ نے لمبی گفتگو کی اور الزام لگایا کہ آپ نے ہماری جماعت کو توڑ دیا ہے اور ہمارے دین میں عیب نکالا ہے۔ اس نے دولت اور شادی کی پیشکش بھی کی۔

یہاں قابلِ غور بات یہ ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی بات کو ایک بار بھی نہیں کاٹا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس کی پوری بات سنی، اور جب عتبہ خاموش ہوا تو آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے پوچھا: "کیا تم اپنی بات مکمل کر چکے؟" جب اس نے کہا ہاں، تو نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے قرآن مجید کی آیات کی تلاوت سے موقع کی مناسبت سے جواب دیا۔

ڈیجیٹل دنیا میں اس کا اطلاق:

  • اگر آپ تبصرہ کرنا چاہتے ہیں تو پہلے پوری پوسٹ پڑھیں یا مکمل ویڈیو دیکھیں، تاکہ آپ بات کو سمجھ سکیں اور تصدیق کے بعد ہی کمنٹ کریں۔
  • کسی لکھنے والے کی بات کو محض اس لیے نہ کاٹیں کہ اس کا آغاز آپ کو پسند نہیں آیا یا وہ آپ کی رائے سے مطابقت نہیں رکھتا۔

دوسرا محور: ڈیجیٹل وائرس کا مقابلہ اور افواہوں سے پرہیز

جدید الگورتھمز سنسنی خیزی اور خبروں کے تیزی سے پھیلاؤ کو فروغ دیتے ہیں، جس سے جھوٹی خبروں (Fake News) کا پھیلنا آسان ہو جاتا ہے۔

نبی کریم (ص) نے اس انتشار سے معاشرتی امن کو بچانے کے لیے ایک حتمی اصول وضع کیا اور فرمایا: "آدمی کے جھوٹا ہونے کے لیے یہی کافی ہے کہ وہ جو سنے اسے آگے بیان کر دے"۔

یعنی ہر فرد چیزوں کو دوبارہ شیئر (Share) کرنے کا ذمہ دار ہے۔ اگر وہ بغیر تصدیق کے سب کچھ شیئر کرتا ہے، تو وہ جھوٹ پھیلانے کا حصہ بن جاتا ہے، جو کسی دشمن کی سوچی سمجھی سازش بھی ہو سکتی ہے۔

واقعہ افک کے حوالے سے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"جب تم اسے اپنی زبانوں سے ایک دوسرے تک پہنچا رہے تھے اور اپنے مونہوں سے وہ بات کہہ رہے تھے جس کا تمہیں کوئی علم نہ تھا، اور تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک وہ بہت بڑی بات تھی۔ (15) اور ایسا کیوں نہ ہوا کہ جب تم نے اسے سنا تھا تو کہہ دیتے کہ ہمارے لیے یہ کسی طرح روا نہیں کہ ہم ایسی بات زبان سے نکالیں، سبحان اللہ! یہ تو ایک بہت بڑا بہتان ہے۔ (16) اللہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ اگر تم سچے مومن ہو تو آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا۔ (17)" [سورۃ النور]

اور سورۃ الحجرات کی آیت 6 میں ارشاد ہوتا ہے:

"اے ایمان والو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو خوب تحقیق کر لیا کرو، مبادا تم کسی قوم کو نادانی سے نقصان پہنچا بیٹھو، پھر تمہیں اپنے کیے پر پشیمان ہونا پڑے۔"

ڈیجیٹل دنیا میں اس کا اطلاق:

  • رکنے کا اصول: "شیئر" یا "ری ٹویٹ" کا بٹن دبانے سے پہلے خود سے پوچھیں: کیا میں نے اس خبر کی سچائی کی تصدیق کی ہے؟
  • محض "حیران کن" یا "فارورڈڈ" کا بہانہ بنا کر کسی مشکوک ٹرینڈ کا حصہ نہ بنیں اور نہ ہی کسی کی رسوائی پھیلانے کا سبب بنیں۔
  • یاد رکھیں کہ عہدِ نبوی میں افواہ کا اثر وقتی ہوتا تھا، پھر بھی اس پر سخت الٰہی وعید آئی۔ آج کے دور میں ڈیجیٹل افواہ ہمیشہ زندہ رہتی ہے اور سیکنڈوں میں پوری دنیا میں پھیل جاتی ہے، اس لیے اس کا خطرہ کہیں زیادہ بڑا ہے۔

تیسرا محور: شائستہ اور باوقار جواب

اسکرینوں کے پیچھے اور فرضی ناموں کے استعمال کے ساتھ، بہت سے لوگ دوسروں کو گالیاں دینے اور ان کی تذلیل کرنے کی جرات کرتے ہیں کیونکہ انہیں اپنی شناخت ظاہر ہونے کا ڈر نہیں ہوتا۔ نبوی تعلیمات ایمان اور انسان کے ضبطِ نفس کے درمیان گہرا تعلق قائم کرتی ہیں۔

حدیث میں ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نہ تو "فحش گو تھے، نہ لعنت کرنے والے، اور نہ ہی گالیاں دینے والے"۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمیشہ اپنے صحابہ کو یہ نصیحت کرتے تھے: "مومن نہ تو طعنے دینے والا ہوتا ہے، نہ لعنت کرنے والا، نہ بے حیا اور نہ ہی بدکلام۔"

چاہے بات کرنے والے کی شناخت معلوم ہو یا چھپی ہوئی، اخلاق ایک ہی رہتا ہے اور اسے تقسیم نہیں کیا جا سکتا۔

علاوہ ازیں، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے:

"وہ تو پوشیدہ بات کو بلکہ اس سے بھی زیادہ چھپی ہوئی بات کو جانتا ہے۔" [طہ: 7]

اور فرمایا:

"وہ منہ سے کوئی بات نہیں نکالتا مگر یہ کہ اس کے پاس ایک نگہبان (لکھنے کے لیے) تیار رہتا ہے۔" [ق: 18]

ڈیجیٹل دنیا میں اس کا اطلاق:

  • خیال اور غلطی پر تنقید کریں، لیکن لکھنے والے کی ذات، اس کی شکل یا لہجے پر حملہ نہ کریں۔
  • اگر آپ کا سامنا کسی بے مقصد بحث یا گالی گلوچ سے ہو، تو اللہ کا یہ فرمان یاد رکھیں: "اور جب جاہل لوگ ان سے (جاہلانہ) خطاب کرتے ہیں تو وہ سلامتی کی بات کہہ کر گزر جاتے ہیں۔" [الفرقان: 63] بحث میں الجھنے کے بجائے "اگنور" (Ignore) یا "بلاک" (Block) کا آپشن استعمال کرتے ہوئے دانشمندی سے کنارہ کشی اختیار کریں۔
  • یاد رکھیں کہ آپ کی انگلیاں جو کچھ ٹائپ کر رہی ہیں، وہ آپ کے اعمال نامے کا حصہ ہے جس کا حساب روزِ قیامت دینا ہوگا۔

نتیجہ اور تجاویز:

آج نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے یومِ وصال کو منانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ اس دن کو ہم اپنی حالت بدلنے کا ذریعہ بنائیں تاکہ ہم اللہ تعالیٰ کی رضا حاصل کر سکیں اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی سنت کے قریب تر ہو سکیں۔ اس میں یہ بھی شامل ہے کہ ہم ڈیجیٹل دنیا میں آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے اخلاق اور تعلیمات کے بہترین سفیر بنیں۔

سوشل میڈیا مذہب سے کٹا ہوا کوئی الگ پلیٹ فارم نہیں ہے، بلکہ یہ ہماری حقیقی زندگی کا ہی ایک حصہ ہے۔ اس ورچوئل دنیا میں اپنی شرکت کو تعمیر کا ذریعہ بنائیں، تخریب کا نہیں۔ اگر آپ کہیں جہالت دیکھیں تو آپ کا جواب علم اور ادب کے ساتھ ہونا چاہیے، یا پھر خاموشی اور کنارہ کشی اختیار کریں۔ جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا:

"اور جب تم ان لوگوں کو دیکھو جو ہماری آیتوں میں عیب جوئی کر رہے ہیں، تو ان سے کنارہ کش ہو جاؤ، یہاں تک کہ وہ کسی اور بات میں لگ جائیں۔ اور اگر شیطان تمہیں بھلا دے تو یاد آنے کے بعد ظالم لوگوں کے ساتھ مت بیٹھو۔" [الانعام: 68]

ہمیشہ یہ سنہری اصول یاد رکھیں: صرف وہی کچھ لکھیں جسے آپ قیامت کے دن اپنے اعمال نامے میں دیکھ کر خوش ہوں۔

 

 

Comments

Popular posts from this blog

The Friday sermon for July 24, 2026 (corresponding to 9 Safar 1448 AH) - Sayed Hashim Behbehani Mosque - Sheikh Ali Hassan Ghuloum - Kuwait

نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 2 رمضان 1447ھ - شيخ علي حسن

The Friday sermon for July 17, 2026 (corresponding to 2 Safar 1448 AH) - Sayed Hashim Behbehani Mosque - Sheikh Ali Hassan Ghuloum - Kuwait