نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 9 صفر 1448 هـ - مسجد سيد هاشم بهبهاني - كويت - شيخ علي حسن غلوم


پہلی خطبہ: 

خاموشی کی حکمت: بامقصد گفتگو اور ڈیجیٹل آداب پر عصری رہنمائی

تمہید
مسلسل رابطے اور سوشل میڈیا کے اس دور میں، بامقصد گفتگو اور خاموشی کے حوالے سے نبویؐ اور تاریخی حکمتیں انسانی وقار اور سماجی ہم آہنگی کے لیے ایک ناگزیر ستون ہیں۔

بنیادی حکمت اور ارشادات

  • فرمانِ رسولؐ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "آدمی کی فہم و سمجھداری کی نشانی"—جو اس کی عقل کی پختگی، مضبوط شخصیت اور ہدایت یافتہ ہونے کی دلیل ہے—"یہ ہے کہ وہ ان امور میں کم گفتگو کرے جو اس سے تعلق نہیں رکھتے۔"
  • تاریخی قول: المجتبیٰ میں بیان ہوا: "بہت سے مقامات پر خاموشی بہترین مددگار ثابت ہوتی ہے، چاہے آپ فصیح و بلیغ ہی کیوں نہ ہوں۔"

غیر ضروری مداخلت کی عصری مثالیں

  1. شخصی و نجی معاملات: دوسروں کے ذاتی معاملات میں تجسس یا فضول مداخلت کرنا حکمت کے سراسر خلاف ہے۔
  2. تخصصی یا تکنیکی امور: اپنے دائرہ اختیار یا مہارت سے باہر کے موضوعات پر بغیر کسی عقلی، نقلی (دستاویزی) یا تجربی دلیل کے رائے دینا اس حکمت کی نفی ہے۔
    • طبی مثال: ڈاکٹر نہ ہونے کے باوجود مخصوص علاج معالجے کا مشورہ دینا۔
    • سماجی مثال: ایسی سماجی یا خانگی نصیحتیں کرنا جو ازدواجی زندگی کو تباہ کر دیں۔

سوشل میڈیا اور موجودہ دور کا اطلاق
یہ حکمت موجودہ دور میں سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر مکمل طور پر لاگو ہوتی ہے، جس کے تقاضے درج ذیل ہیں:

  • ہر نشر ہونے والی پوسٹ یا خبر پر تبصرہ کرنے سے گریز کیا جائے۔
  • لاحاصل اور لاینحل بحث و مباحثے سے بچا جائے۔
  • ایسی گفتگو سے دوری اختیار کی جائے جس کے شرعی یا قانونی نتائج بھگتنے پڑ سکتے ہوں۔

کم گوئی اور خاموشی کے مثبت اثرات

  • وقار کا تحفظ: کم بولنا انسان کے رعب و دبدبے کو برقرار رکھتا ہے اور اسے سنجیدگی کا لبادہ اڑھاتا ہے، برعکس اس شخص کے جو بہت زیادہ باتیں کرتا ہے۔
  • غلطیوں میں کمی: زیادہ بولنے سے خطا کا احتمال بڑھ جاتا ہے، جس سے انسان خود کو یا دوسروں کو مشکل میں ڈال لیتا ہے۔
  • نجی زندگی کا احترام: دوسروں کی پرائیویسی کا احترام کرنا اور مداخلت نہ کرنا باہمی اعتماد اور قدر کے پل تعمیر کرتا ہے۔
  • روحانی و اخلاقی تحفظ: انسان کا نفس غیبت، جھوٹ، بہتان اور چغلی جیسے گناہوں سے محفوظ رہتا ہے، کیونکہ زیادہ بولنا انسان کو ان امور کی طرف دھکیلتا ہے۔

دلوں کی صفائی: یہ عمل فرد کو ان فضول جھگڑوں سے بچاتا ہے جو دلوں میں بغض و کینہ پیدا کرتے ہیں۔ 


دوسری خطبہ: 

شوہر نفسیات کا تجزیہ: ایک متوازن مرد کی شخصیت کے چار بنیادی ستون

تمہید

جب انسان نہیں جانتا کہ کوئی مشین کیسے کام کرتی ہے اور اسے استعمال کرتا ہے... تو وہ شدید یا مکتمل طور پر خراب ہو سکتی ہے۔ یہی معاملہ تب ہوتا ہے جب انسان سامنے والے کی صفات سے ناواقف ہو اور اس سے معاملہ کرے... جہاں اس وجہ سے تعلقات کو شدید نقصان پہنچنے کا احتمال پیدا ہوتا ہے۔ اس لیے، ایک عورت کے لیے یہ جاننا ضروری ہے کہ اکثر مردوں میں مشترکہ عام صفات کیا ہیں، اور پھر اپنے شوہر کی مخصوص صفات کو جانے... اور اس کے برعکس بھی یہی اصول لاگو ہوتا ہے۔

خاندانی نظام کی مضبوطی اور معاشرتی ہم آہنگی کے لیے ایک عام، صحت مند اور متوازن مرد کی بنیادی نفسیاتی خصوصیات کو سمجھنا انتہائی ضروری ہے۔ ماہرین نے مردانہ شناخت اور جذباتی صحت کو برقرار رکھنے والے چار بنیادی ستونوں کی نشاندہی کی ہے۔

چار بنیادی ستون

(1   مسابقت چیلنج اور خود شناسی

جذبہ: مرد چیلنجز، مسابقت اور مشکلات برداشت کرنے کو پسند کرتا ہے تاکہ اپنی ذات کو منوا سکے۔
مددگار: اس کی جسمانی اور عضلاتی ساخت اس دوڑ میں اس کی فطری مدد کرتی ہے۔
2) تحفظ : محافظ کا کردار
کردار: مرد اپنی بیوی، بچوں، ماں اور اپنے پیاروں کا محافظ بننے میں خوشی محسوس کرتا ہے۔
عمل: وہ چاہتا ہے کہ اس کے اپنے حق لینے کے لیے اسی کا سہارا لیں اور اس کی آواز بنیں۔
عزم: وہ اپنوں کے تحفظ کی خاطر آخری حد تک لڑنے کے لیے بھی تیار رہتا ہے۔
3کفالت (کمانے اور خرچ کرنے کی ذمہ داری
سوچ: مرد دوسروں کی کفالت کا ذریعہ بننے میں دلی راحت اور خوشی محسوس کرتا ہے۔
تبدیلی: شادی کے بعد اس کی مالی ترجیحات انفرادی اخراجات سے بدل کر پورے خاندان کی اجتماعی ضروریات پر مرکوز ہو جاتی ہیں۔
مستقبل: وہ اپنی زندگی میں اور اپنے مرنے کے بعد بھی اہل خانہ کا مستقبل محفوظ بنانے کی فکر کرتا ہے۔
ناکام کا اثر: اس ذمہ داری میں ناکامی اسے شدید شرمندگی، اندرونی اذیت اور عزتِ نفس پر گہرے زخم دیتی ہے۔
بحران: بے روزگاری مرد کی نفسیات کو تباہ کر دیتی ہے، جو اسے غیر قانونی راستوں یا خودکشی کی طرف بھی دھکیل سکتی ہے۔
4) اولیت (نمبر 1 ہونے کا احساس)
مرتبہ: مرد کے لیے یہ بات بہت اہم ہے کہ وہ اپنے گھر میں ترجیحِ اول (نمبر 1) ہو۔
ردعمل: اگر وہ اپنی بیوی یا گھر میں یہ اہمیت کھو دے، تو وہ کسی ایسے شخص کی تلاش میں نکل سکتا ہے جو اسے یہ احساس دے۔
ضرورت: مرد یہ محسوس کرنا چاہتا ہے کہ گھر والے اس کے محتاج ہیں؛ یہ احساس ختم ہونا اسے مایوسی کی دلدل میں دھکیل دیتا ہے۔
حوصلہ افزائی اور تعریفی کلمات کا جادو
پسندیدہ جملے: مرد اپنی شریکِ حیات سے یہ جملے سننا بے حد پسند کرتا ہے:
"آپ سلامت رہیں اور ہمارے لیے لاتے رہیں۔"
"اللہ آپ کی کمائی میں برکت دے۔"
"آپ ہمارے لیے بہت تھکتے اور محنت کرتے ہیں۔"
"اگر آپ نہ ہوتے تو ہمارا کیا بنتا؟"
اثر: اگرچہ خاندان پر خرچ کرنا مرد کی شرعی، قانونی اور عرفی ذمہ داری ہے، لیکن یہ الفاظ براہِ راست اس کے دل پر اثر کرتے ہیں۔
بنیادی اعتراف: اگر مرد گھر والوں کی تمام خواہشات اور امیدیں پوری نہ بھی کر پائے، تب بھی یہ احساس کہ اس کے اہل خانہ اس کی محنت پر فخر اور قدر کرتے ہیں، اس کے لیے سب سے بڑا سرمایہ ہے۔

مثالی بیوی: ایک ایمان افروز نبویؐ واقعہ

  • واقعہ: ایک شخص رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں حاضر ہوا اور اپنی بیوی کی تعریف کرتے ہوئے عرض کیا: "جب میں گھر داخل ہوتا ہوں تو وہ میرا استقبال کرتی ہے، جب باہر جاتا ہوں تو مجھے الوداع کہتی ہے۔ اور جب مجھے غمگین دیکھتی ہے تو کہتی ہے: 'آپ کو کس بات کا غم ہے؟ اگر رزق کی فکر ہے تو وہ تو آپ کے علاوہ کسی اور (اللہ) کے ذمہ ہے، اور اگر آخرت کی فکر ہے تو اللہ آپ کے اس غم (فکر) میں مزید اضافہ فرمائے۔'"
  • بشارتِ نبویؐ: آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "اسے جنت کی خوشخبری دے دو اور کہہ دو کہ وہ اللہ کے کارکنوں (ملازموں) میں سے ایک ہے، اور اسے آدھے شہید کا اجر ملے گا۔"
  • مفہوم: "اللہ کی کارکن" ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ بالکل اسی طرح فرائض انجام دے رہی ہے جیسا کہ کائنات کے حقیقی مالک کا حکم ہے۔

معترضین کا جواب (صحت مند اکثریت بنام استثناء)

  • اعتراض: بحث پسند لوگ یہ اعتراض کریں گے کہ کچھ مرد مالی ذمہ داریوں سے بھاگتے ہیں یا عورتوں پر بوجھ ہوتے ہیں۔
  • حقیقت: یہاں گفتگو ایک عام اور ذہنی طور پر صحت مند مرد کی ہو رہی ہے۔ ہمیں استثنائی کیسز اور لاحاصل بحثوں کی وجہ سے اصل تعمیری افکار کو ضائع نہیں کرنا چاہیے۔

عورت کی شناخت بنام مرد کی ضروریات

  • موازنہ: مرد میں تحفظ اور کفالت کی خواہش اس کی خود غرضی نہیں بلکہ اس کی پہچان ہے۔
  • عورت کی مثال: بالکل اسی طرح جیسے عورت کے لیے بناؤ سنگھار کرنا (جیسا کہ سورہ الزخرف:18 میں اشارہ ہے) اور اپنے شوہر سے اپنی خوبصورتی اور محبت کے الفاظ سننا اس کی فطرت ہے۔ یہ عورت کی خود غرضی نہیں بلکہ اس کی نسوانیت اور ہستی کا حصہ ہے۔

مرد کی حقیقی خود غرضی کیا ہے؟
ایک مرد اس وقت حقیقی طور پر خود غرض کہلاتا ہے جب وہ:

  • اہل خانہ پر خرچ نہ کرے اور اپنی فضول عیاشیوں کو خاندان کی بنیادی ضروریات پر ترجیح دے۔
  • ہر رات دوستوں کے ساتھ بیٹھکوں (دیوانیہ) میں گزارے اور اپنی بیوی کی رات کے وقت ساتھ رہنے کی نفسیاتی ضرورت کو نظر انداز کرے۔
  • خاندان کے مفاد پر اپنے ذاتی مفاد کو ترجیح دے۔
  • صرف اپنی ضروریات کی فکر کرے اور یہ سمجھے کہ سب اس کے خادم ہیں، جبکہ یہ بھول جائے کہ اس کی بیوی کی بھی اپنی ایک شخصیت اور جذباتی تقاضے ہیں جنہیں پورا کرنا واجب ہے۔

محبت کے اظہار کی طاقت

  • فرمانِ امام صادقؑ بحوالہ فرمانِ نبویؐ: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: "مرد کا اپنی بیوی سے یہ کہنا کہ 'میں تم سے محبت کرتا ہوں'، اس کے دل سے کبھی نہیں نکلتا۔"
  • اثر: یہ سادہ سا جملہ عورت کے دل میں ہمیشہ کے لیے تحفظ اور سکون پیدا کر دیتا ہے۔

کامیاب ازدواجی زندگی کا تزویراتی خاکہ

  • بیوی کا کردار: مرد کی بنیادی صفات (مسابقت، تحفظ، کفالت اور اولیت) کو سمجھ کر تعریفی کلمات کے ذریعے اس کی مردانگی اور قوامیت کے احساس کو جلا بخشے۔ یہ عمل گھر میں لڑائی جھگڑوں کے امکانات کو ختم کرتا ہے اور بحرانوں کو ٹالتا ہے۔
  • شوہر کا کردار: یہ ذمہ داری یکطرفہ نہیں ہے۔ شوہر پر بھی لازم ہے کہ وہ عمومی طور پر عورت کی نفسیات، خصوصاً اپنی بیوی کی منفرد شخصیت، اور اس کی نفسیاتی و جسمانی ضروریات کو گہرائی سے سمجھے۔

Comments

Popular posts from this blog

The Friday sermon for July 24, 2026 (corresponding to 9 Safar 1448 AH) - Sayed Hashim Behbehani Mosque - Sheikh Ali Hassan Ghuloum - Kuwait

نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 2 رمضان 1447ھ - شيخ علي حسن

The Friday sermon for July 17, 2026 (corresponding to 2 Safar 1448 AH) - Sayed Hashim Behbehani Mosque - Sheikh Ali Hassan Ghuloum - Kuwait