نمازِ جمعہ کے دو خطبے، 13 ذو القعدة 1447ھ - مسجد سيد هاشم بهبهاني - كويت - شيخ علي حسن غلوم
پہلا خطبہ:
نہج البلاغہ کی حکمت اور فکر کی
اہمیت
• نہج
البلاغہ کے اقوالِ زریں میں سے ہے: (علم ایک گراں قدر وراثت ہے، آداب نئے
لباس (کی مانند) ہیں، اور فکر ایک صاف شفاف آئینہ ہے)۔
• آئینہ آپ
کو تصویر دکھاتا ہے، اور آئینہ جتنا زیادہ صاف ہوگا، تصویر اتنی ہی واضح ہوگی۔
• اگر آپ
گھر سے باہر جانے سے پہلے یہ جاننا چاہتے ہیں کہ آپ کی ظاہری حالت کیسی ہے، تو آپ
آئینے کا سہارا لیتے ہیں۔
• لیکن اگر
آپ یہ فرض کر لیں کہ آپ پوری طرح تیار ہیں اور آپ کی ظاہری شکل مناسب ہے، اور آپ
باہر نکل جائیں، تو معاملہ اس کے برعکس بھی ہو سکتا ہے۔ ایسی صورت میں کوئی آپ پر
طنز کرے گا، کوئی آپ کی خرابی کی طرف اشارہ کرے گا، اور کوئی ہمدردی کے طور پر آپ
سے پوچھے گا کہ کیا آپ خیریت سے ہیں؟
• بالکل
اسی طرح، جب آپ چاہتے ہیں کہ معاملات آپ پر واضح ہو جائیں اور آپ حقائق تک پہنچ
جائیں، تو غور و فکر کریں۔ کیونکہ سوچنا، تجزیہ کرنا اور چھان بین کرنا ہی
آپ کو معرفت (صحیح علم) تک لے جاتا ہے۔
• اس کے
برعکس، اگر آپ معاملات کو آنکھیں بند کر کے ویسے ہی قبول کر لیں جیسے وہ ہیں، تو
آپ کو ان ہی شرمناک اور مشکل حالات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔
• چنانچہ
غور و فکر ایک الٰہی تحفہ اور ایک ایسی ذاتی قوت ہے جو آپ کو صحیح اور غلط کے
درمیان استدلال کرنے، اور حق و باطل میں تمیز کرنے میں مدد دے سکتی ہے؛ خواہ وہ
نظریاتی اور علمی مسائل ہوں، یا آپ کے روزمرہ کے فیصلے، یا اللہ کے ساتھ تعلق کی
مضبوطی:
(بے شک
آسمانوں اور زمین کی تخلیق اور رات اور دن کے بدل بدل کر آنے میں عقل والوں کے لیے
نشانیاں ہیں۔ وہ جو اللہ کو کھڑے، بیٹھے اور اپنی کروٹوں پر یاد کرتے ہیں اور
آسمانوں اور زمین کی تخلیق میں غور و فکر کرتے ہیں (اور کہتے ہیں): اے ہمارے رب!
تو نے یہ سب بے مقصد پیدا نہیں کیا، تو پاک ہے، پس ہمیں آگ کے عذاب سے بچا) [سورہ آل عمران]۔
• امام جعفر صادق علیہ السلام نے صحابیِ رسول جنابِ ابوذر (رض) کی عبادت کی تعریف کرتے ہوئے کتنا خوبصورت ارشاد فرمایا: (حضرت ابوذر کی اکثر عبادت غور و فکر کرنا اور عبرت حاصل کرنا تھا)۔
دوسرا خطبہ:
سورہ نساء: انسانی تعلقات اور
معاشرتی قوانین
سورہ نساء میں متعدد انسانی تعلقات
سے متعلق ہدایات اور قانون سازی کی گئی ہے، جن کی چند مثالیں درج ذیل ہیں:
1۔
یتیموں کے ساتھ ان کے اموال کے حوالے سے تعلق:
(اور
یتیموں کو ان کے مال دے دو، اور پاکیزہ چیز کو ناپاک سے نہ بدلو، اور نہ ہی ان کے
مال کو اپنے مال میں ملا کر کھاؤ، بے شک یہ بہت بڑا گناہ ہے) [آیت 2]۔ اسی موضوع
پر دیگر آیات بھی موجود ہیں۔
2۔
ازدواجی تعلق اور اس کے اثرات:
جیسے مہر، طلاق، ازدواجی اختلافات،
میاں بیوی کی وراثت اور قوامیت (نگرانی):
(مرد
عورتوں پر حاکم و نگران ہیں، اس لیے کہ اللہ نے بعض کو بعض پر فضیلت دی ہے اور اس
لیے کہ وہ اپنے اموال خرچ کرتے ہیں) [آیت 34]، اور دیگر آیات۔
3۔
ورثاء اور صاحبِ مال کے درمیان تعلق:
جیسا کہ آیت نمبر 7 میں ہے:
(مردوں
کے لیے اس میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا، اور عورتوں کے لیے
بھی اس میں حصہ ہے جو والدین اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا، خواہ وہ تھوڑا ہو یا
زیادہ، یہ ایک طے شدہ حصہ ہے)۔
4۔
محرم رشتوں کا باہمی تعلق:
یہ آیات 23 اور 24 میں ملتا ہے:
(تم
پر حرام کر دی گئیں تمہاری مائیں، تمہاری بیٹیاں، تمہاری بہنیں، تمہاری پھوپھیاں،
تمہاری خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تمہیں دودھ
پلایا...) آخرِ آیت تک۔
5۔
انفرادی ملکیت کے حق کی تاکید:
ملکیت پر قبضے کی حرمت اور مال کی
منتقلی کا عام قانون، جیسا کہ آیت 29 میں ہے:
(اے
ایمان والو! اپنے مال ایک دوسرے کے درمیان باطل طریقے سے نہ کھاؤ، سوائے اس کے کہ
تمہاری باہمی رضا مندی سے تجارت ہو)۔
6۔
انسانی جان کی حرمت:
(اور
اپنی جانوں کو قتل نہ کرو، بے شک اللہ تم پر نہایت مہربان ہے) [آیت 29]۔ چاہے اس
کا مفاد خودکشی کی حرمت ہو یا دوسرے انسان کو قتل کرنے کی حرمت۔ اسی طرح آیت 92:
(اور کسی مومن کے لیے یہ جائز نہیں کہ وہ کسی مومن کو قتل کرے مگر یہ کہ غلطی سے
ہو جائے)۔
7۔
خاندان کے افراد، پڑوسیوں، ضرورت مندوں اور دوستوں کے درمیان تعلق:
(اور
والدین کے ساتھ حسنِ سلوک کرو، اور رشتہ داروں، یتیموں، مسکینوں اور قریبی پڑوسیوں
کے ساتھ...) [آیت 36]۔
نتیجہ:
یہاں سے ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اس سورت
کا آغاز اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد سے کیوں ہوا:
(اے لوگو!
اپنے رب سے ڈرو جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی سے اس کا جوڑا بنایا اور
ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں پھیلا دیں، اور اللہ سے ڈرو جس کے نام پر تم
ایک دوسرے سے سوال کرتے ہو اور رشتوں (کی پامالی) سے بچو، بے شک اللہ تم پر نگہبان
ہے) [سورہ نساء: 1]۔
میں یہاں دو اہم نکات (ملاحظات) درج
کرنا چاہتا ہوں:
پہلا نکتہ: یہ آیت
کہتی ہے کہ جب آپ دوسروں کے ساتھ لین دین کریں، یا ان سے الجھ پڑیں، یا کوئی تنازع
پیدا ہو، تو یاد رکھیں کہ آپ سب کی اصل ایک ہی ہے۔ یاد رکھیں کہ آخرکار آپ ایک ہی
ماں اور ایک ہی باپ کی اولاد ہیں۔
• چنانچہ یہاں انسان کو غلط رویے سے
روکنے کے لیے دو داخلی عوامل (Internal factors) موجود ہیں: ایک "تقویٰ"،
جسے ہر وقت حاضر اور متحرک ہونا چاہیے تاکہ وہ انسان کو دوسروں پر زیادتی کرنے سے
روکے اور اس کے طرزِ عمل کی اصلاح کرے۔ اور دوسرا عامل "انسانیت" ہے، جس
سے یہ توقع کی جاتی ہے کہ وہ تقویٰ کی مدد کرے، یا اگر انسان کا تقویٰ کمزور پڑ
جائے تو اس کی جگہ لے کر اسے برائی سے روکے۔
دوسرا نکتہ: اس آیت
اور عمومی طور پر پوری سورہ (نساء) میں اس بات پر زور دیا گیا ہے کہ عورت بھی
انسانیت کے عنوان میں مرد کی طرح مکمل طور پر شامل ہے۔
• شاید ہم اس نظریے کی اہمیت کو اس وقت
تک نہ سمجھ سکیں جب تک ہم اس دور (نزولِ قرآن کے زمانے) کا مطالعہ نہ کریں؛ تب
ہمیں معلوم ہوگا کہ اس وقت کی اکثر اقوام اور مذاہب یا تو عورتوں سے انسانیت کی
صفت ہی چھین چکے تھے اور انہیں محض ناپاکی (رجس) تصور کرتے تھے، یا پھر انہیں
دوسرے درجے کا انسان سمجھتے تھے جنہیں غلام بنایا جاتا تھا اور وہ وراثت میں تقسیم
ہوتی تھیں، لیکن خود نہ کسی چیز کی مالک بن سکتی تھیں اور نہ وراثت پاتی تھیں۔
• یہی بات
ہمیں اس تاکید پر ابھارتی ہے کہ اسلام انسانیت کا دین ہے، اور
"انسان" ان بنیادی محوروں میں سے ایک ہے جن پر دین کی تعلیمات، تشریعات
اور اخلاقیات کی بنیاد ہے۔ لہٰذا بعض اسلام پسندوں کا "انسانی کام" (humanitarian work) کی اصطلاح پر اعتراض کرنا اور صرف "اسلامی
کام" کی اصطلاح پر اصرار کرنا بے معنی ہے۔
• یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ جب ہم
"انسانیت" کے عنوان پر زور دیتے ہیں، تو ہم دراصل قرآنِ کریم کے اندازِ
بیان کے ساتھ ہم آہنگ ہو رہے ہوتے ہیں۔ اس سے ہمارا مقصد ہرگز یہ نہیں ہوتا کہ ہم
اللہ کے لیے اخلاص، اس کے قرب کی طلب، یا اپنے دینِ اسلام پر فخر کو چھوڑ رہے ہیں۔
• اسلام نے انسان کو ان اہم ترین محوروں میں سے ایک بنایا ہے جس کے گرد قرآنِ کریم کی تشریعات، ہدایات اور الٰہی وصیتیں گھومتی ہیں۔ یہ اس لیے نہیں کہ انسانی ذات (Ego) اتنی بڑھ جائے کہ وہ خدائی کا دعویٰ کرنے لگے یا اللہ سے سرکشی کرے، بلکہ اس لیے کہ انسان کو اس کے صحیح مقام اور درست راستے پر رکھا جائے۔ تاکہ وہ جان سکے کہ وہ کہاں سے آیا ہے، کیوں آیا ہے، اور اسے کہاں جانا ہے؟ وہ اپنی منزل کی تیاری کیسے کرے؟ خالق کے تئیں اس کی کیا ذمہ داریاں ہیں؟ اس کے حقوق اور فرائض کیا ہیں؟ اور وہ انسانی تعلقات کے مختلف پہلوؤں میں اپنی ہی جنس کے دوسرے افراد کے ساتھ کیسا برتاؤ کرے کہ جس سے ایک فرد کے طور پر اس کے اپنے حقوق بھی محفوظ رہیں اور دوسروں کے حقوق کی بھی حق تلفی نہ ہو۔

Comments
Post a Comment